
اسلام آباد (بیورو رپورٹ)
پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق امیدوار برائے قومی اسمبلی بلال خان شیرپاؤ کی زیر صدارت سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے اثرات کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں مختلف ملکی و غیر ملکی تنظیموں کے نمائندوں، ماہرینِ ماحولیات اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلال خان شیرپاؤ نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں آج پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں، تاہم پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور دیرپا حکمتِ عملی کیسے اختیار کی جائے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسئلے کو قومی ترجیح قرار دے اور اس حوالے سے ٹھوس پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے، تاکہ مستقبل میں درپیش چیلنجز کا بروقت اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
بلال خان شیرپاؤ نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیاں تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہیں، جن کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، شدید موسمی حالات، گلیشیئرز کا پگھلاؤ اور قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں یہ تبدیلیاں سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، زرعی پیداوار میں کمی اور صحت کے مسائل کی صورت میں نمایاں ہو رہی ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، شجرکاری مہمات کو مؤثر بنایا جائے، آبی وسائل کا بہتر انتظام کیا جائے اور ماحولیاتی آگاہی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط
بنانا ہوگا تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر شرکاء نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل کا حل صرف اجتماعی کاوشوں سے ممکن ہے، اس لیے حکومت، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو مل کر ایک جامع لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
