ایشیا کپ 2025 کا آغاز منگل سے متحدہ عرب امارات میں ہو رہا ہے، جہاں روایتی حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان زبردست مقابلہ ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا ٹاکرا بن چکا ہےجس پر دُنیا بھر کی نظریں ہیں۔ دونوں ٹیمیں مئی میں ہونے والی جنگی جھڑپ کے بعد پہلی بار کرکٹ کے میدان میں آمنے سامنے آئیں گی۔
یہ ٹورنامنٹ ٹی20 فارمیٹ میں کھیلا جا رہا ہے اور نہ صرف کرکٹ کے میدان میں ایشیائی بالادستی کے لیے اہم ہے بلکہ آئندہ سال بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاری کا بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔
ٹورنامنٹ کا آغاز ابوظہبی میں افغانستان اور ہانگ کانگ کے درمیان میچ سے ہوگا، لیکن شائقین کی نظریں 14 ستمبر کو دبئی میں ہونے والے بھارت-پاکستان مقابلے پر جمی ہوئی ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان اس بار کا ٹاکرا ایک سنگین سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان رواں سال مئی میں 4 روزہ شدید جنگ ہوئی، جو 1999 کے بعد بدترین کشیدگی تھی۔ اس دوران میزائل، ڈرون اور گولہ باری کے تبادلوں میں 70 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اگرچہ سیز فائر ہو چکا ہے، مگر تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم نے شائقین اور کھلاڑیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور حد پار نہ کریں‘۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان آخری باہمی سیریز 2012 میں ہوئی تھی، اس کے بعد سے دونوں ٹیمیں صرف غیر جانبدار میدانوں پر بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں مدمقابل آتی ہیں۔
میچ کے انعقاد پر بھارت میں خاصی تنقید ہو رہی ہے۔ سابق اسپنر ہربھجن سنگھ، جو حال ہی میں انگلینڈ میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں شامل تھے، نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے کی شدید مخالفت کی ہے۔
انہوں نے ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ خون اور پسینہ ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ اگر سرحد پر لڑائی ہو رہی ہے، تعلقات کشیدہ ہیں، تو ہم کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ جب تک بڑے مسائل حل نہیں ہوتے، کرکٹ ایک بہت چھوٹی بات ہے‘۔
ایشیا کپ میں 8 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں کہ 5 مکمل رکن ممالک جن بھارت، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا شامل ہیں جبکہ تین ٹیمیں (ہانگ کانگ، عمان، اور یو اے ای) اے سی سی پریمیئر کپ میں ٹاپ 3 پوزیشنز حاصل کرکے کوالیفائی کر چکی ہیں۔
گروپ اے میں بھارت، پاکستان، یو اے ای اور عمان کو رکھا گیا ہے جبکہ گروپ بی میں افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، ہانگ کانگ شامل ہیں۔ گروپ اسٹیج کے بعد ٹاپ 2 ٹیمیں سپر فور مرحلے میں جائیں گی، جبکہ فائنل 28 ستمبر کو ہوگا۔
بھارت، جو سوریہ کمار یادو کی قیادت میں کھیل رہا ہے، ٹورنامنٹ کا مضبوط ترین دعویدار ہے۔ ٹی20 انٹرنیشنلز میں پاکستان کے خلاف بھارت کو 3-10 کی برتری ہے اور حالیہ چیمپیئنز ٹرافی میں بھی بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
دوسری جانب پاکستان کو اپنے اسٹار بلے باز بابر اعظم اور محمد رضوان کے بغیر میدان میں اترنا ہوگا، جنہیں ناقص فارم کے باعث ٹیم سے باہر کر دیا گیا ہے۔
بھارت نے گزشتہ ایشیا کپ (2023) بھی جیتا تھا، جو 50 اوورز کے فارمیٹ میں کھیلا گیا تھا اور فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی۔
سرحدی کشیدگی کے بیچ کرکٹ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن چکی ہے اور ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ تین مقابلے شائقین کے لیے سنسنی خیز تجربہ بننے جا رہے ہیں۔