انسانیت کا جنازہ اور سیلاب زدگان کی تذلیل ۔۔۔ایس پیرزادہ

انسانیت کا جنازہ اور سیلاب زدگان کی تذلیل

تحریر
ایس پیرزادہ

بدترین بارشوں اور ہولناک سیلاب نے اس ملک کے باسیوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ سینکڑوں بستیاں اجڑ گئیں بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں مال مویشی کھیت کھلیان اور گھروں کا سامان پانی کی بے رحم موجوں میں بہہ گیا متاثرہ عوام پہلے ہی اپنے پیاروں اپنے گھر اپنے خواب اور اپنی زندگی کا سرمایہ کھو بیٹھے مگر اس کے بعد جو منظرنامہ سامنے آیا وہ اور بھی دردناک ہے
سیلاب زدگان کی امداد کے نام پر سیاستدانوں بیوروکریٹس ٹک ٹاکرز کی شکل میں یلغار سی دکھائی دے رہی ہے کیمرے کے سامنے ایک ڈبہ بریانی ایک بوتل پانی یا چند روٹیاں تھما کر مسکراتے چہرے اور تصویریں بنوانا دراصل انسانی تذلیل کی بدترین شکل ہے لائنوں میں کھڑے بے بس مرد و عورت جن کے چہروں پر بے بسی اور آنکھوں میں آنسو ہیں انہیں اس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ خیرات کے نہیں بلکہ اپنی عزت نفس کے جنازے کے لیے کھڑے ہوں اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو مگر ہمارے معاشرے میں دکھاوا اور شہرت کے لیے انسانیت کی تذلیل کو فروغ دیا جا رہا ہے یہ کیسا نظام ہے کہ مدد کرنے والے اپنے چہرے تو نمایاں کرتے ہیں مگر ان بے بسوں کی آہیں ان کی لاچاری ان کے آنسو سب کے سامنے نمائش بنا دی جاتی ہے؟ یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا المیہ ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت اور بالخصوص وزیراعظم اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ فوری طور پر سیلاب زدگان کی عملی امداد کریں ان کے لیے محفوظ ٹھکانے فراہم کیے جائیں بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے بیماروں کے علاج اور جانوروں کی دیکھ بھال کا بندوبست کیا جائے ملتان میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی نئی تعمیر شدہ خالی عمارت یا دیگر سرکاری و نجی عمارتوں کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے تاکہ یہ بے سہارا خاندان عزت اور سہولت کے ساتھ اپنی زندگی کی سانسیں جاری رکھ سکیں میری حکومت اداروں اور پوری قوم سے دست بستہ اپیل ہے کہ اگر مدد کرنی ہے تو عزت کے ساتھ کریں امداد لینے والے بھی ہمارے ہی بھائی بہن اور بچے ہیں ان کی تصویریں ان کے روتے چہرے اور ان کی بے بسی کو سوشل میڈیا کی نمائش نہ بنایا جائے ان کی دعائیں ان کی عزت نفس اور ان کا مان ہی اصل سرمایہ ہے
اللہ تعالیٰ ہم سب کو انسانیت کا درد عطا فرمائے آنکھیں کھولنے اور دلوں کو نیکی کی تڑپ کی توفیق دے یہ قدرتی آفات صرف امتحان نہیں بلکہ ہمارے اعمال کا آئینہ بھی ہیں کاش ہم اس سے سبق سیکھیں اور انسانیت کو اس کا اصل مقام لوٹا سکیں اللہ پاک ہم سب پر اپنا رحم فرمائے سب کو اپنے گھروں میں محفوظ رکھے مشکل کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top