ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈیپارٹمنٹ صوابی کے زیر اہتمام پنج پیر میں ایک روزہ زرعی ورکشاپ ۔۔۔


صوابی (بیورو رپورٹ)
صوابی ایگریکلچر اینڈ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام AMFRINA فارم پنج پیر میں ایک روزہ زرعی آگاہی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں زمینداروں کو جدید زرعی طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ ورکشاپ میں ڈائریکٹر ایگریکلچر مفتاح اللہ، ڈائریکٹر ادریس خان، ڈپٹی ڈائریکٹر عباس خان، ڈائریکٹر ریاض خان اور واٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان سمیت ضلع بھر سے بڑی تعداد میں زمینداروں نے شرکت کی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے زرعی پیداوار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور معیاری بیجوں کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈائریکٹر مفتاح اللہ نے کہا کہ ہائی برڈ سیڈز کے استعمال سے کم وقت میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، جس سے زمینداروں کی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں زرعی شعبے میں نت نئے تجربات ہو رہے ہیں اور پاکستان میں بھی جدید زرعی تحقیق کی بدولت فصلوں کی پیداوار روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ ضلع صوابی کی زرعی زمین انتہائی زرخیز ہے، جہاں ہر قسم کی سبزیاں، پھل اور اجناس پیدا ہو رہی ہیں، جو ملک کے مختلف شہروں کو سپلائی کی جا رہی ہیں۔ صوابی میں تمباکو، آلو، مالٹا اور ہائی برڈ سبزیوں کی پیداوار نہ صرف ملکی ضروریات پوری کر رہی ہے بلکہ کئی ممالک کو برآمد بھی کی جا رہی ہے، جس سے ملکی معیشت کو استحکام مل رہا ہے۔
ڈائریکٹر ادریس خان نے زمینداروں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ صوابی میں جلد جدید کولڈ اسٹوریج قائم کیا جائے گا، جہاں زمیندار اپنے پھل اور سبزیاں محفوظ کر سکیں گے، جس سے فصل ضائع ہونے سے بچے گی اور بہتر قیمت حاصل کی جا سکے گی۔
ورکشاپ سے فواد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زرعی فارم میں ہر سال مختلف اقسام کی ہائی برڈ سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں، جس سے بہترین پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے وائٹ آنین (سفید پیاز) کی سات مختلف اقسام پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ ہائی برڈ سفید پیاز کے بیج کم مدت میں تیار ہو جاتے ہیں، ان کا سائز یکساں ہوتا ہے، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں اور مارکیٹ میں ان کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ ہائی برڈ سفید پیاز نہ صرف زیادہ پیداوار دیتا ہے بلکہ اس کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے، جس سے زمینداروں کو زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔
ورکشاپ میں زمینداروں کو زرعی مارکیٹنگ کے جدید طریقوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ زمیندار اپنی پیداوار کو منڈی تک محدود رکھنے کے بجائے براہ راست آڑھتیوں، کولڈ اسٹوریج اور سپلائی چین کمپنیوں سے رابطہ کریں۔ اس کے علاوہ اجتماعی مارکیٹنگ، کسان تنظیموں کے ذریعے فروخت، اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے بھی بہتر قیمت حاصل کی جا سکتی ہے۔ ویلیو ایڈیشن اور بروقت مارکیٹ تک رسائی زمینداروں کی آمدن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ورکشاپ میں زمینداروں کی تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ آخر میں تمام شرکاء نے فواد خان کے ہمراہ ظہرانہ کیا، جس کے بعد ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top