
ویب ڈیسک اسلام آباد: بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے چین کے صدر شی جن پنگ کو یقین دلایا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے صرف 5 روز قبل بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیا تھا۔
تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات میں مودی نے کہا کہ ہم اپنے تعلقات کو باہمی احترام، اعتماد اور حساسیت کی بنیاد پر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
مودی 7 سال بعد پہلی بار چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن سمیت ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ دو روزہ اجلاس میں شریک ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی ملاقات کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی بھارت کے ساتھ سرحدی اختلافات حل کرنے اور تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو سرحدی مسئلے کو اپنے تعلقات کو مکمل تعریف نہ بننے دینا چاہیے بلکہ معاشی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔
شی جن پنگ نے مزید کہا کہ اگر دونوں ممالک شراکت داری کے اصول پر کاربند رہیں اور ایک دوسرے کو خطرہ سمجھنے کے بجائے ترقی کے مواقع فراہم کریں تو چین اور بھارت کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مودی کا حالیہ بیان امریکا کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر بھارت کو دی جانے والی سزا کے طور پر 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ کے بعد بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں تیزی سے بڑھتی قربت کی عکاسی کرتا ہے۔

