سوات طلباء کا تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف احتجاج ۔۔۔

سوات , طلباء کا تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف ایک عظیم الشان اور تاریخی احتجاج ، خوش آئند اقدام

تحریر/بلاگر ؛ سیف اللہ عُمر

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ تبدیلی سرکار کے آمد سے اگر کوئی فائدہ ہوا ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور مشاہدے میں آیا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں اور صحت کے اداروں پر یہ اشتہار آپ نے ضرور ملاحظہ کیا ہوگا کہ “ہم سرکاری منصوبے کے تحت ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی نجکاری کی مخالفت کرتے ہیں” جو کہ من حیث القوم ہمارے لیے کسی المیے سے کم نہیں ہے اور اس مد میں ہم کو مستقبل میں کئی سنگین اور مُہلک نتائج دو چار ہونا پڑے گا ــ زمینی حقائق اس بات پر شاہد ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام جو کہ خود میں کئی خرابیاں لیے ہوا ایک فرسودہ طور پر چل رہا ہے ، اولین ہنگامی طور پر خود کو ایک منظم منصوبے کے تحت اپنے تبدیلی کیے لیے اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے ــ لیکن اس سے قطعی طور پر یہ تأثر نہیں لیا جاسکتا ہے کہ اس تعلیمی نظام کو یکسر طور پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ و برباد کیا جائے ــ ایک دفعہ تبدیلی سرکار کے ایک وزیر سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا تبدیلی لائی ہے ؟ تو نابکار وزیر نے کہا کہ آپ یہ سوال جا کر کسی سرکاری سکول کے استاذ سے پوچهـ لیں ــ اس صورتحال میں جہاں پنشن اصلاحات کے نام پر اساتذہ کرام سے اُن کے بڑھاپے کی لاٹھی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس مد میں سامراج اور استعماری قوتیں کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں ــ ہر روز آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ ہر روز سوشل اور پرنٹ میڈیا میں اساتذہ کی طرف سے اسلام آباد میں احتجاج کیے لیے اشتہارات کے انبار لگے ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے اُن پر لاٹھی چارج اور آنسوں گیس کی بھرمار کیا ہی عجیب تأثر دیتا ہے ؟ اگر ایک طرف یہ صورتحال ہمیں مُلک و قوم کے ڈھوبتی ہوئی ناؤ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے اخبارات میں اس قسم کے بیانات کہ اساتذہ کی کارکردگی صحیح نہیں ہے لہذا ہم سرکاری تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کرتے ہیں ــ اگر حکومت واضح اور قوی منصوبہ بندی کرتی ہے تو صرف اداروں کو قومیانے کی غرض سے کرتی ہے اور اُن کو اسلام آباد میں معمارانِ قوم احتجاج کرتے ہوئے نظر نہیں آتے ہیں ــ

پچھلے دِنوں میں حکومت کی طرف سے صوبے بھر کے 4147 کی نجکاری کا اعلامیہ پیش کیا گیا تھا جس پر تعمیل کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ــ واضح رہے کہ بنیادی بشری حقوق کے منافی اقدام پر آئین پاکستان میں واضح دفعات موجود ہے جس کی واضح مثال دفعہ نمبر 25 شق الف ہے جس میں یہ لکھا گیا ہے کہ ریاست میٹرک تک تعلیم کی فراہمی کا زمہ دار ہے ــ اگر یہ بنیادی بشری کے دفعات میں ہے تو اس کو کیوں متنازعہ بنایا جارہا ہے ؟

سرکاری تعلیمی اداروں کو قومیانے سے قوم کئی مشکلات

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top