
ویب ڈیسک: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جو لوگ آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے، اور نیشنل پیس آپریشن کے لیے تمام اداروں اور سیاسی قوتوں کو ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے یہ بات پولیس ٹریننگ سینٹر ڈی آئی خان کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر علاقوں میں امن قائم ہے، تاہم بعض علاقوں میں شرپسند عناصر اب بھی سرگرم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ حملے میں ایک حملہ آور مقامی جبکہ باقی افغانی تھے، جو براہ راست افغانستان سے رابطے میں تھے۔
’ہم بار بار کہتے ہیں کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خلاف افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے افغان بہن بھائیوں کو دہائیوں تک پناہ دی، لیکن افسوس ہے کہ آج وہ بھارت کے اشاروں پر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا ایک وفد بھارت میں موجود تھا اور اسی دوران پاکستان پر حملہ کیا گیا، جو بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
گورنر نے کہا کہ پاکستان میں ترقی کے لیے پہلے امن کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، اس کی ترقی امن سے مشروط ہے۔
ہم نے ضم شدہ علاقوں میں جرگے بھیجے تاکہ امن قائم ہو، لیکن بعض عناصر پاکستان کے قانون اور ریاست کو نہیں مانتے، ان کے ساتھ صرف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت چاروں وزرائے اعلیٰ کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں قومی سلامتی اور آپریشن سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
