وھمی اورکزئی کی شاعری میں پشتو تشکک۔۔ آغا مبھم یوسفزئی

وھمی اورکزئی کی شاعری میں تشکک
؁
پشتوں کا معروف شاعر اشرف مفتون اس بات کا قائل ہے کہ کوئی شاعر اور کسی شاعر کے شاعری میں اگر تشکک نظر نہیں آتا تو اس کی شاعری محض لفاظی ہے اور لفاظی کوئی معنی نہیں رکھتا۔
آج میں پشتوں کے جدید شاعری کے استاد اور صاحبِ اسلوب شاعر وھمی اورکزئی کے شاعری میں تشکک پر بات کرنے جا رہا ہوں۔
پشتوں میں ہمیں ایسے بہت سے شعراء نظر آتے ہیں جن کی شاعری میں تشکک ہوتا ہے مثلاً معروف شاعر شاھد قماش کا ایک شعر ملاحظہ کیجئے:

یقین اوکړه زهٔ شکي یم
او پهٔ شک مې پوخ یقین دے
شاهد قماش

اس سے پہلے کہ میں وھمی اورکزئی کی شاعری میں تشکک پر بحث کروں پہلے میں ان کے اسلوب پہ بات کرتا ہوں۔
وھمی اورکزئی تحصیل ٹل ضلع ہنگو کے اورکزو سے تعلق رکھنے والا اپنے عصر کا ایسا بڑا نام ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا آپ نے شاعری میں جدید موضاعات کو شامل کر کے قاری کے سامنے رکھے ہیں اور اپنے ایسی الگ طرزِ انداز سے لوگوں کی نظروں میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔
وھمی اورکزئی ایک بہترین غزل گو کے ساتھ ساتھ ایک بہترین نظم گو بھی ہیں۔ آپ فطرت اور اس کی خوبصورتی سے متعلق موضوعات بہت اچھے طرح اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں۔
وھمی صاحب نے شاعری میں بہت فنی انداز میں تجسیم اور پرسُنیپیکشن کا استعمال ہے یعنی بے جان چیزوں کو جانداروں کے خصوصیات دے دی ہیں۔
پشتو اور اردو کے نقاد ا.س. ایاغ نے آپ پر ایک کتاب لکھی ہے جس میں وھمی اورکزئی کے فن پر بحث کیا گیا ہے اور اس کتاب میں ا۔س۔ ایاغ نے یہ بات کھول کر بلا جھجک بیان کی ہے”کہ اورکزئی کے ہاں وھمی اورکزئی جیسا معیاری شاعر کوئی اور پیدا نہیں ہوا”
پروفیسر اقبال شاکر نے وھمی اورکزئی کے کتاب کی تقریب میں کہا تھا کہ “میں نے اپنی زندگی میں بہت کم شعراء پر اس کے تخلص کا اثر دیکھا ہے اور ان میں وھمی اورکزئی بھی شامل ہیں”
اور اقبال شاکر کے اس بات سے میں بھی متفق ہوں
تشکک ہمیں وھمی اورکزئی کے شاعری میں بہت سے اشعار میں ملتی ہیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں

تيارو کښې خو مې خپل سيورے هم پرېږدي تنهائۍ ته
دا تۀ مې چرته بيائې؟ لارویه همقدمه!!
ــــــــــــــ
وهمي اورکزے

نہ تو میں کوئی نقاد ہوں اور نہ میری ادبی سمجھ اتنی ہے کہ میں وھمی اورکزئی جیسے بڑے شاعر کے شاعری پر بحث کرو اس لیۓ مجھے فقط آپ کے شاعری اپنی بساط کے مطابق تشکک ظاھر کرنا ہے۔
وھمی اورکزئی کے شاعری صرف وھم و تشکک سے نہیں بھری ہوئی بلکی ان کے ذاتی زندگی بھی وھم وتشکک سے بھری ہوئی ہے۔
وھمی اورکزئی کی ایک نظم “شجرہ” میں ہم تشکک کی انتہائی گہرائی دیکھ سکتے۔ وہ اپنے تقدیر کے باری میں فرماتے ہیں

“زۂ ښۀ خبر یم، ولې نۀ خبر؟
خو ما آئینه کښې د تقدير خپله جوثه لیدلې
او د جوثې شاته مې غرقه تلوسه ليدلې”
ـــــ
وهمي اورکزے

“شجرہ نظم سے ایک بند میں
اپنی تشکک کی وجہ سے وہ اس قدر بے چین ہے کہ نہ اپنا خیال رکھتے ہیں اور نہ اپنے مال و متاع کا۔ بس وہ اپنے تشکک کے ساتھ ہی جیتے ہیں، اور فرماتے ہیں:

وهمي!! وهم څۀ؟ شېبره غوندې تبه
چې دېره ده پۀ شعور او لا شعور مې
ـــــــ
وهمي اوکزے
ــــــ
لیک آغا مبهم يوسفزے

ځه ورځه يو څوک کنګال خو به دې شته کړي
ما د خداے پۀ نوم بخښلے ئې جائیداده!!!
ـــــــــــــــــ
وهمي اورکزے

اخر ميں جاتے جاتے کہنا چاہونگا کہ وھمی اورکزئی کے شاعری میں ہم بہت سے اشعار میں تشکک محسوس کرتے ہیں اور خود بھی تشکک سے تھکا ہوا نظر آتے ہیں ہے اور تشکک کو اس طرح بیان کرتے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top