
عمران خان کی رہائی، خیبر پختونخوا کی سیاست اور قومی سلامتی…
تحریر حماد یوسفزئی
پاکستان کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عمران خان کی رہائی، خیبر پختونخوا کی صوبائی سیاست اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمتِ عملی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔
پاکستان کو رواں سال خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات کا سامنا رہا ہے۔ جون 2026 کی ایک سکیورٹی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 118 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بدستور زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل رہے۔ اسی تناظر میں سکیورٹی ادارے عزمِ استحکام اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں متعدد کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتِ حال بھی خاصی اہم ہے۔ محمد سہیل آفریدی اکتوبر 2025 سے صوبے کے وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے نمایاں رہی ہے۔ اگست 2026 میں انہوں نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا تھا۔ لیکن کل وزیر اعلیٰ سہیل افریدی نے ایک میڈیا پریس کانفرنس میں 27 ستمبر کی لانگ مارچ کو 4 اکتوبر 2026 تک ملتوی کیا۔ وزیر اعلیٰ سہیل افریدی کے اس اعلان سے پی ٹی آئی کارکنان میں کافی تشویش پائی جاتی ہیں ۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات اور صوبے کو درپیش امن و امان کے چیلنجز کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی، پولیس، انتظامیہ اور عوامی تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھنا چاہیے۔ دوسری طرف تحریکِ انصاف کا مؤقف عمران خان کی قانونی اور سیاسی صورتحال کو اپنی جد وجہد کا مرکزی معاملہ قرار دیتا ہے۔
وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ 22 ستمبر 2026 کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ پشاور کے موقع پر خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال، جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور سرحدی انتظامات پر مکمل بریفنگ دی گئی۔ فلیڈ مارشل سید عاصم منیر نیشنل سیکیورٹی پر بھی خیبر پختونخوا حکومت کے بارے میں بھی تفصیل سے اگا کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں اصل توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاسی اختلافات کے باوجود امن و امان، دہشت گردی کے خلاف تعاون، آئینی و قانونی عمل اور سیاسی مذاکرات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہیں۔ لیکن یہاں پر خیبر پختونخوا حکومت کا راستہ جدا نظر آرہا ہے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ کسی قسم سپورٹ کے موڈ میں نہیں ہے۔ ان کا ایک پوائنٹ ایجنڈا ہے صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ۔
وزیر اعلیٰ سہیل افریدی کے اس سخت اور غیر جمہوری رویے پر ریاستی اداروں نے حتمی فیصلہ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی تھریٹس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا جائے ۔ اب موجودہ صورتحال سے صاف نظر آرہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل افریدی چند دنوں کا مہمان ہے۔
