اسد قیصر کمپرومائزڈ کھلاڑی ۔۔۔۔

کمپرومائزڈ کھلاڑی؟ اندر کی خبر۔۔۔
پاکستان تحریک انصاف کے اندر بعض سینئر رہنماؤں کے کردار اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے مبینہ روابط ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کے کچھ اہم رہنماؤں نے انتخابات سے قبل مقتدر حلقوں کے ساتھ مبینہ طور پر ایسے معاملات طے کیے تھے جن کے تحت وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کسی سخت سیاسی اقدام یا بیانیے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
اسی تناظر میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا نام بھی زیرِ بحث آتا ہے۔ ماضی میں اسد قیصر اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کی بعض اہم مواقع پر مشترکہ پریس کانفرنسیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ نومبر 2022 میں دونوں نے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق پریس کانفرنس کی تھی، جبکہ جون 2023 میں پرویز خٹک نے اسد قیصر کے ہمراہ 9 مئی کے واقعات پر اپنے موقف کا اظہار کیا تھا۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ان ملاقاتوں اور پریس کانفرنسوں کے پسِ پردہ کیا معاملات طے ہوئے تھے؟ اگر کسی قسم کا معاہدہ، یقین دہانی یا تحریری دستاویز موجود تھی تو اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس حوالے سے عوام اور میڈیا کے سامنے کوئی مستند دستاویز یا قابلِ تصدیق ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا۔
میری معلومات کے مطابق بعض ذرائع اس حوالے سے سنگین دعوے کر رہے ہیں اور اسد قیصر کے مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی سمجھوتے کا ذکر کرتے ہیں۔ تاہم ایک صحافتی اصول کے تحت ایسے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ اسد قیصر کا مؤقف بھی اس معاملے میں اہم ہے اور انہیں چاہیے کہ وہ ان الزامات کی وضاحت کھل کر عوام کے سامنے رکھیں۔
سوال بہت سادہ ہے:
اگر کوئی خفیہ یا تحریری معاہدہ نہیں ہوا تو اس کی واضح تردید کی جائے، اور اگر کسی ملاقات یا پریس کانفرنس کے حوالے سے کوئی غلط تاثر پیدا ہوا ہے تو اس کی مکمل وضاحت بھی سامنے آنی چاہیے۔
سیاسی کارکنوں اور عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں کے سیاسی فیصلوں، ملاقاتوں اور بیانات کے بارے میں حقیقت جان سکیں۔
سوال تو بنتا ہے، اسد قیصر صاحب!
حماد یوسفزئی
سینئر صحافی و تجزیہ نگار

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top